روزہ: احساسِ بندگی کی تازگی کا ذریعہ |
(ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 09)۔
روزے کا قانون یہ ہے کہ آخر شب طلوع سحر کی پہلی علامات ظاہر ہوتے ہی آدمی پر یکا یک کھانا پینا اور مباشرت کرناحرام ہو جاتا ہے اور غروب آفتاب تک پورے دن حرام رہتا ہے۔ اس دوران میں پانی کا ایک قطرہ اور خوراک کا ایک ریزہ تک قصدا حلق سے اُتارنے کی اجازت نہیں ہوتی اور زوجین کے لیے ایک دوسرے سے قضائے شہوت کرنا بھی حرام ہوتا ہے۔ پھر شام کو ایک خاص وقت آتے ہی اچانک حرمت کا بند ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ سب چیزیں جو ایک لمحہ پہلے تک حرام تھیں یکا یک حلال ہو جاتی ہیں اور رات بھر حلال رہتی ہیں، یہاں تک کہ دوسرے روز کی مقررہ ساعت آتے ہی پھر حرمت کا قفل لگ جاتا ہے۔ ماہ رمضان کی پہلی تاریخ سے یہ عمل شروع ہوتا ہے اور ایک مہینہ تک مسلسل اس کی تکرار جاری رہتی ہے۔ گویا پورے تیس دن آدمی ایک شدید ڈسپلن کے ماتحت رکھا جاتا ہے۔مقر روقت تک سحری کرے، مقرر وقت پر افطار کرے، جب تک اجازت ہے ، اپنی جائز خواہشات نفس پوری کرتار ہے اور جب اجازت سلب کر لی جائے تو ہر اُس چیز سے رُک جائے جس سے منع کیا گیا ہے۔
اس نظام تربیت پر غور کرنے سے جو بات سب سے پہلے نظر میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ اسلام اس طریقہ سے انسان کے شعور میں اللہ کی حاکمیت کے اقرار و اعتراف کو مستحکم کرنا چاہتا ہے، اور اس شعور کو اتنا طاقتور بنا دینا چاہتا ہے کہ انسان اپنی آزادی اور خود مختاری سے بالفعل دستبردار ہوجائے۔یہ اعتراف و تسلیم ہی اسلام کی جان ہے،اور اسی پر آدمی کے حقیقی مسلم ہونے یا نہ ہونے کا مدار ہے۔
اسلامی عبادات پر تحقیقی نظر(سید موُدودی )
| |
|