Monday, 1 Shawwal 1446  |  March 31, 2025
Menu
روزے کا دین میں مقام۔
(ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 11)۔

یہ ایک فطری سی بات ہے کہ جس اُمّت پر اللہ کے نظام کو دنیا میں قائم کرنے اور اس کے ذریعےنوعِ انسانی کی قیادت کرنے اور انسانوں کے سامنے حق کی گواہی دینے کے لیے جہاد فی سبیل اللہ کرنے کو فرض کیا جائے اُس پر روزہ فرض ہو! روزے ہی سے انسان میں محکم ارادے اور عزم بالجزم کی نشونما ہوتی ہے۔روزہ ہی وہ عمل ہے جس کے ذریعے انسان خدا کی رضا اور اجرِ آخرت کے لیے تمام جسمانی ضرورتوں پر قابو پاتا ہےاور تمام دشواریوں اور زحمتوں کو برداشت کرنے کی قوت حاصل کرتا ہے۔

اس فریضہ کا اولین مقصود تقویٰ،قلب کی صفائی ،احساس ِ ذمہ داری اور خشیتِ الٰہی کے لیے دِلوں کو تیار کرنا ہے۔تقویٰ دل میں زندہ و بیدار ہو تو مومن اس فریضہ کو اللہ کی فرمانبرداری کے جذبے کے تحت اُس کی رضا جوئی کے لیے ادا کرتا ہے۔ تقویٰ ہی دِلوں کا نگہبان ہے۔وہی معصیت سے روزے کو خراب کرنے سے انسان کو بچاتا ہے،خواہ یہ دل میں گزرنے والا خیال ہی کیوں نہ ہو۔قرآن کے اولین مخاطب جانتے تھے کہ اللہ کے یہاں تقویٰ کا کیا مقام ہے اور اُس کی میزان میں تقویٰ کا کیا وزن ہے۔روزہ اُس کے حصول کا ذریعہ اور اُس تک پہنچانے کا راستہ ہے۔

(سید قطب شہیدؒ )

Related Media