Monday, 1 Shawwal 1446  |  March 31, 2025
Menu
عید کا پیغام
(ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 12)۔
اسلام نے عید کے دن کو محض خوشی و مسرت کا دن نہیں قرار دیا ہے بلکہ اس نے خوشی و مسرت کے دن کے ساتھ ساتھ اسے تسبیح و تہلیل،ذکر و عبادت اور اپنے مسلمان بھائیوں میں جو محتاج اور مفلوک الحال ہیں، ان کی اداد و غم گساری کا دن بھی قرار دیا ہے۔خوشی و مسرت کے نام پر دوسری قوموں میں جو ہر طرح کی آزادی پائی جاتی ہے۔اس کے برعکس اسلام اپنے ماننے والوں کو اخلاقی اور شرعی حدود کا پابند بناتا ہے اور انہیں بے لگام نہیں چھوڑ دیتا ہے۔مسلم بندہ احکام شریعت اور اپنے پیغمبر علیہ سلام کی ہدایت کا پابند ہوتا ہےاورجو پابندی نہیں کرتا وہ سچا مسلمان ہر گز نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ کے بندوں کو ایک پُر مشقت عبادت کے بعد خوشی کا ایک دن میسر کیا گیا تاکہ وہ اللہ کا شکر ادا کریں اور اللہ کی تعریف کریں۔ {وَلِتُكْبَرُوا اللهَ عَلَى مَا هَذَلِكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴿﴾} اللہ کی تعریف کہ اس نے ہم کو یہ مشقت والی عبادت کی توفیق دی اور اس بات پر شکر کہ اس نے اہل اسلام کو کھلے میدانوں میں جمع ہونے کا حکم دے کر ہمیں محبت و مودت کی خوبصورت لڑی میں پرودیا۔عید کی نماز میں جمع ہونے کا مقصد یہ ہے کہ ہم باہمی کدورتیں اور نفرتیں،قبائلی و علاقائی تعصّبات،مسلکی و سیاسی تفریقات اور افتراقات کو بھلاکر اکٹھے ہو کر اہل اسلام کی یگانگت کا عملی مظاہرہ کریں۔عید کا دن پیغام ہے ہر اس روزے دار کے لیے جس کے لیے یہ دن واقعی جہنم سے آزادی کا دن قرار پاگیا۔جس روزہ دار نے اپنے گناہ معاف کروالیے،جو اللہ کا ویسا بندہ بن گیا جیسا رمضان بنانا چاہتا تھا۔جس کو رمضان نے حلم و بردباری،عفو درگزر،تواضع و عاجزی اور عبادت و ریاضت کا پابند بنادیا۔جس روزہ دار کے دن اطاعت و فرمانبرداری سے اور راتیں قیام سے مزین ہوگئیں اور جو یہ سب نہ کماسکا وہ اپنا محاسبہ کرلے۔ابھی زندگی کی رونق باقی ہے،ابھی سانس چل رہے ہیں،ابھی تبدیلی کا امکان باقی ہے۔صرف نئے کپڑے پہن کر عید کی خوشیوں میں شریک ہونے والا مسلمان یاد رکھے کہ حقیقی خوشی تو اس کی ہے جس کا دل اللہ کی محبت سے بھر چکا ہے،جس کے دل میں گناہ سے نفرت کا مضبوط بیچ بویا جاچکا ہے۔

پروفیسر زید حارث(کے کالم سے اقتباس)۔

Related Media