Menu

Ruju-ilal-Quran-2

Ruju-ilal-Quran Course 2

what image shows

اس سال کورس کا آغاز 10 جولائی 2017ء بروز پیر سے ہوگا۔ ان شاءاللہ


موجودہ دور میں ہم مسلمانوں کاایک بڑا المیہ یہ ہے کہ جولوگ جدید تعلیم حاصل کرتے ہیں اور اپنی زندگی کے کئی قیمتی سال اسکولوں اور کالجوں کی نذر کردیتے ہیں. اِسی طرح معاشرے کے وہ افراد جو دینی تعلیم کے حصول کے لیے ابتداء ہی سے دینی مدارس کا رخ کرتے ہیں وہ اکثر و بیشتر دنیوی تعلیم کے میدان میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں.
بحیثیت مسلمان ہماری ایک نہایت اہم ذمہ داری ہے کہ دین کا بنیادی علم حاصل کریں. قرآنِ حکیم سے استفادے کے لیے عربی زبان کو اِس حد تک سیکھنا کہ قرآنِ حکیم پڑھتے ہوئے کسی ترجمہ کی مدد کے بغیربراہِ راست مفہوم سمجھ میں آتا جائے ناگزیر ہے ۔ اِسی طرح حدیث نبوی کو سمجھنے کے لیے جو درحقیقت قرآنِ حکیم ہی کی شرح اور حکمت و احکام دین کا ایک عظیم خزانہ ہے عربی زبان سیکھنا بے حد ضروری ہے ۔
رجوع الی القرآن کورس کا مقصد یہی ہے کہ ایسے حضرات و خواتین کو جو جدیدتعلیم حاصل کرچکے ہوں عربی زبان کے بنیادی قواعد اور اُن بنیادی دینی علوم سے آراستہ کردیا جائے جو قرآنِ حکیم کو سمجھ کر پڑھنے ،سمجھنے اور فہمِ دین کے حصول کے لیے ضروری ہیں ۔


علم العقیدةاصول التفسیر
علم التفسیرعلوم القرآن
اصول الحدیثعلم الحدیث
اصول الفقہعلم القواعد الفقہیہ
فقہ العباداتفقہ المعاملات
التزکیہ والاحساناللغة العربیة و ادبہا
علم البلاغہالفکر الاسلامی
المحاضرات التوسیعیہ
علومِ دینیہ ایک بحر بے کنار کی مانند ہیں۔ اس سمندر کی وسعتوں کا اندازہ کرنے کے لیے پوری پوری زندگیاں بھی ناکافی معلوم ہوتی ہیں۔ اگر ایک شخص علومِ دینیہ کے کسی ایک گوشے میں سلفِ صالحین کے کام کا احاطہ کرنا چاہے تو گزشتہ چودہ صدیوں کا تراثِ علمی اُسے اپنی جانب دعوتِ فکر دیتا ہے ۔ جبکہ دوسری جانب عصر حاضر کی تیز رفتاری اُسے اس تعیش کی اجازت نہیں دیتی، خصوصاً جبکہ دین دورِ غربت کا شکار ہو۔بَدَأَالْاِسْلَامُ غَرِیْبًا وَسَیَعُودُ کَمَا بَدَأَ غَرِیْبًا فَطُوْ بٰی لِلْغُرَبَاء(مسلم )” اسلام کی ابتداء اس حال میں ہوئی تھی کہ کوئی اسے جانتا نہ تھااور عنقریب یہ ویسے ہی ہوجائے گا جیسا دورِ اوّل میں تھا۔پس خوشخبری ہے اُن لوگوں کے لیے جو دورِ غربت میں اس کا ساتھ دینے والے ہوں گے “۔
اس مشکل کا حل اس طرح تجویز کیا گیا کہ علومِ دینیہ میں سے وہ علوم جن کی تحصیل، دین پر کام کرنے والے ایک صاحبِ علم کے لیے ناگزیر ہے ، اُن کی تو باقاعدہ تدریس ہو اورطلبہ کو ایک خاص حد تک مناسب استعداد کا حامل بنایاجائے ، جبکہ دیگر علومِ دینیہ کاایک تعارف ”توسیعی محاضرات“کے عنوان کے تحت مختلف ماہرینِ فن ،اصحابِِ علم ودانش کے سلسلے وار لیکچرز کے ذریعے کروا دیا جائے ۔ اللہ رب العزت کی توفیق وتیسیر شاملِ حال رہی تو اس طرح یہ بات ممکن ہوسکے گی کہ اس کورس سے فارغ التحصیل ہونے والے سعادت مند اپنے مزاج کے مطابق دین کے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے سکیں گے ۔
1. رجوع الی القرآن کورس سال دوم میں صرف حضرات شرکت کرسکتے ہیں۔ خواتین کی شرکت کا اہتمام نہیں ہے ۔
2. رجوع الی القرآن کورس میں سال دوم میں داخلے کے لیے انٹر/بی اے / بی ایس سی یامساوی ڈگری کا حامل ہونا(کم از کم)لازمی ہے ۔ دیگر نظام ہائے تعلیم مثلاً کیمرج بورڈ اور وفاق ہائے مدارس دینیہ کے طلبہ بھی درخواست فارم جمع کراسکتے ہیں۔البتہ حتمی داخلہ انٹرویو کے بعد دیا جائے گا۔
3. رجوع الی القرآن کورس سال اوّل یا اقامتی کورس کی سند کا حامل ہونا بھی ضروری ہے ۔البتہ دیگر دینی مدارس سے مساوی اسناد کے حامل طلبہ بھی درخواست جمع کراسکتے ہیں ۔
4. کورس کا دورانیہ 10ماہ ہوگا۔کورس کا آغاز عید الفطرکے تقریبًا دو ہفتے بعد اور اختتام رمضان المبارک سے دو ہفتےقبل ہوگا۔
5. اوقاتِ تعلیم
پیر تا جمعرات اور ہفتہ8:00بجے صبح تا1:00بجے دن
جمعہ 8:00بجے صبح تا 12:00 بجے دن
6. بلا اجازت غیر حاضر رہنے والے ، تاخیر سے آنے والے اور امتحانات میں غیر حاضر رہنے والے شرکاء کے خلاف تادیبی کارروائی کی جاسکتی ہے ۔
7. ا نتظامیہ اگر محسوس کرے کہ کوئی شریک کورس میں سنجیدہ نہیں یا اُس کا طرزِ عمل ادارے کے لیے نقصان دہ ہے تو اُس کا نام کورس سے خارج کیاجاسکے گا ۔
8. کامیابی کی سند صرف اُن طلبہ کو دی جائے گی جن کی حاضری ہر مضمون میں کم از کم 80فی صد ہو اور انہوں نے ہر مضمون کے امتحان میں کم از کم 40 فی صد نمبرحاصل کیے ہوں۔ امتحانات میں کامیاب نہ ہونے والے طلبہ کو کم از کم 70فی صد حاضری کی بنیاد پرشرکت کی سند دی جائے گی۔
فیس کوئی نہیں(اصحابِ خیر کی جانب سے اس ضمن میں عطیات کا خیر مقدم کیا جاتا ہے)
i
قرآن اکیڈمی یٰسین آباد، بلاک9، فیڈرل بی ایریا، کراچی۔
فون: 6806561 - 0213, 2020907 - 0323

قرآن اکیڈمی یٰسین آباد میں قیام و طعام(Hostel & Mess) کی عمدہ سہولیات دستیاب ہیں۔ قیام وطعام کی سہولت انٹرویو کے بعدفراہم کی جاتی ہے (مستحق اور اہل طلبہ کو معاونت فراہم کی جاسکتی ہے )۔
ہاسٹل میں رہائش اور طعام کے اخراجات کی تفصیلات بوقتِ داخلہ حاصل کی جاسکتی ہیں۔